وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے 5 اگست یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے نکالی گئی ریلی میں شرکت کی

 ریلی کے اختتام پر وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان خالد خورشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے دو سالوں سے مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کررکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے بے گناہ مسلمان گھروں میں محصور ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور مظلوم عوام پر بھارتی مظالم سے دنیا بھر میں بھارت کا مکرو چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان آزاد ہوا لیکن ابھی تکمیل پاکستان ہونا باقی ہے۔کشمیر کی آزادی کیساتھ تکمیل پاکستان مکمل ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے آزادی کیلئے 80 سے زیادہ شہادتیں دی ہیں۔ پاکستان کو قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد مخلص قیادت وزیر اعظم عمران خان ملا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی ممکن ہے۔ دنیا میں مثالی قوم بننے کیلئے ہمیں آپس میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ملک دشمن عناصر کے سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ معاشرے سے کرپشن کے خاتمے کیلئے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حقوق غصب کررہا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان گلگت  بلتستان اور آزاد کشمیر کے محرومیوں کے خاتمے کیلئے مزید اختیارات دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان خالد خورشید نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی بہت قریب ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب ہمارے مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائی بھی آزادی کی صبح دیکھیں گے۔

2۔    وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان خالد خورشید نے گلگت  بلتستان پولیس کے آئی بیکس سکواڈ کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی اور معاشی استحکام کا انحصار امن سے وابستہ ہوتا ہے۔ گلگت  بلتستان میں جرائم کے خاتمے اور امن و امان برقرار رکھنے میں پولیس فورس کا کردار قابل تحسین رہا ہے۔ قیام امن کیلئے پولیس آفیسران اور جوانوں نے قربانیاں دی ہیں۔ گلگت  بلتستان کے عوام کی دنیا بھر میں مہمان نوازی، خوش اخلاقی اور ایمانداری کے حوالے سے مثال دی جاتی ہے جو ہم سب کیلئے باعث فخر ہے۔ گلگت  بلتستان کے وسیع تر مفاد اور تعمیر و ترقی کیلئے ہمیں ہر طرح کے تعصبات سے بالاتر ہونا ہوگا۔ گلگت  بلتستان پولیس فورس کو ایک مثالی فورس بنانے کیلئے حکومت گلگت  بلتستان ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔ پولیس کے محکمے میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ پولیس کو جدید ساز و سامان سے آراستہ کیا جارہاہے اوربہترین تربیت کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ گلگت  بلتستان میں پولیس فورس کی نفری کی کمی دورکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیاحت کے فروغ کیلئے ٹوریسٹ پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ گلگت  بلتستان میں فرانزک لیب کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان خالد خورشید نے آئی بیکس سکواڈ کیلئے 220موٹر سائیکلوں کی علامتی چابی آئی جی پی گلگت  بلتستان محمد سعید وزیر کو دی۔
    آئی جی پی گلگت  بلتستان محمد سعید وزیرنے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے میں جرائم کے انسداد اور امن عامہ کے حوالے سے پولیس ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے بلکہ موجودہ دور میں پولیس کی ذمہ داریوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے جس میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات، جرائم کی روک تھام، میگا پروجیکٹس کی حفاظت، غیرملکی شہریوں کا تحفظ، سیاحو ں کی سیکورٹی اور رہنمائی جیسے فرائض بھی شامل ہیں۔ یہ بات میرے ذاتی مشاہدے میں ہے کہ گلگت  بلتستان آنے والے سیاح آنے سے پہلے یہاں سڑکوں کی حالت اور سیکورٹی صورتحال سے متعلق اتنہائی متجس ہوتے ہیں۔ آپ کے زیر قیادت صوبائی حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے ان دونوں شعبوں میں نہایت تندہی سے عملی اقدامات کررہی ہے۔ ٹوریسٹ پولیس کا قیام اس سلسلے میں ایک شاندار اور رجحان ساز آغاز ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ آئی بیکس سکواڈ کا قیام بھی امن وامان سمیت سیاحت کے شعبے کو تقویب و استحکام کا سبب بنے گا۔ اس کیساتھ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کسی ملک کی معاشی ترقی اور سماجی استحکام کیلئے وہاں قانون کی حکمرانی اور امن عامہ کا بہتر ہونا لازمی ہے اور جی بی جیسے خوبصورت خطے کیلئے بالخصوص جہاں سیر و سیاحت کی ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں پولیس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ مجھے اس بات پر خوشی اور اطمینان ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان پولیس کی کارکردگی سے بخوبی آگاہ ہیں اور آپ نے حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھالتے ہی پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس کی استعداد کار بڑھانے کیلئے مختلف اہم عملی اقدامات کئے۔پولیس کی استعداد کار کو بہتر بنانے کیلئے حکومت نے رواں سال کے دوران محکمہ پولیس میں 3500نئی آسامیوں کی منظوری کیلئے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کردی ہے اس سے علاقے میں بیروزگاری کے خاتمے کے علاوہ امن وامان کی بہتری کیلئے محکمہ پولیس میں نفری کی کمی کا خاتمہ ہوگا۔ پولیس کو راشن الاؤنس کی مد میں ملنے والی ماہانہ 390 روپے کی قلیل رقم کو بڑھا کر 1500 روپے کردیا گیا ہے۔ پولیس یونیفارم کے معیارکو بہتر بنانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے کانسٹیبل سے سب انسپکٹر تک یونیفارم الاؤنس کے طور پر ہرآفیسر کو 1200 روپے ماہانہ دیئے گئے جس سے پولیس کی وردی کے معیار میں مطلوبہ بہتری آئے گی۔ ملک کے دیگر صوبوں کی طرز پر گلگت  بلتستان پولیس کیلئے بھی اس سال بجٹ میں کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کو 1600 روپے اور ASI سے انسپکٹر تک کو 2000 روپے ماہانہ رسک الاؤنس کے طور پر دیئے گئے ہیں۔ گلگت  بلتستان پولیس کے شہداء کیلئے مختص پیکیج کو اب KPK کے طرز پر بڑھایا گیا ہے اور ساتھ ہی شہداء کے بچوں کو تعلیم و ملازمت کی سہولیات دینے کی ایک شاندار حکمت عملی بھی منظور کی گئی ہے۔ پولیس میں ٹرانسپورٹ سے متعلق درپیش مسائل کے حل اور استعداد کار کو بڑھانے کیلئے صوبائی حکومت نے اس سال 220 موٹر سائیکلوں کی خریداری کیلئے وسائل مہیا کئے جو اب باقاعدہ جی بی پولیس کے فلیٹ (fleet)میں شامل ہو چکی ہیں، اس سے گلگت  بلتستان پولیس میں آئی بیکس سکواڈ تشکیل دیا گیا ہے جس کی آج باقاعدہ افتتاح ہورہی ہے جبکہ تھانہ جات کیلئے 20 اضافی گاڑیوں سمیت ایس پی یو پروجیکٹ کے تحت 29 مزید گاڑیاں بھی اسی سال خریدی جائیں گی۔ آئی بیکس سکواڈ کی تشکیل سے شہری اور دیہی ہر دونوں مقامات پر پیٹرولنگ کا نظام نہ صرف موثر ہوگا بلکہ تکنیکی اعتبار سے یہ کم خرچ بھی ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں ٹوریسٹ پولیس کیلئے ٹرانسپورٹ کے مد میں 10 کروڑ روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ پولیس ٹریننگ کو بھی بہتر کرنے کیلئے اب ایڈوانس اور جونیئرکمانڈ کورس ملک کے بہترین تربیتی اداروں سے کرائے جارہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ گلگت  بلتستان پولیس کے موجودہ ٹریننگ سنٹرز کی Capacity Building سمیت ٹریننگ انسٹرکٹرز اور سٹاف کی جو کمی ہے اس کیلئے بھی صوبائی حکومت کی جانب سے ایک پروپوزل وفاقی حکومت کوبھیجا گیا ہے تاکہ ٹریننگ سٹاف کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔ گلگت  بلتستان پولیس کی آٹومیشن کیلئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور منسٹری آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی معاونت سے پہلے فیز میں 25 پولیس سٹیشنوں اور 10ڈسٹرکٹ پولیس آفیسزز کی آٹومیشن پر کام کا آغازکردیا گیا ہے اور سکینڈ فیز میں باقی 47 پولیس سٹیشنز کو بھی کمپیوٹرائز کیا جائے گا تاکہ پورے ملک میں جرائم سے متعلق ریکارڈ مرتب ہوسکے۔ ایس پی یو کے اہلکاروں کی تنخواہوں کی مد میں فنڈز کی قلت کے پیش نظر اہلکاروں کو تنخواہوں کے سلسلے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا جسے حکومت نے صوبائی وسائل سے پائیدار انداز میں حل کرلیا ہے۔ سیزنل چیک پوسٹوں پر تعینات رضا کاروں کی تنخواہ8ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر 10 ہزار ماہانہ کردی گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے جی بی پولیس کے تھانوں اور دیگر انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے 5کروڑ 90 لاکھ مختص کررکھے ہیں نیز محکمہ پولیس سے متعلق Sick Projects کو بحال کرنے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان کا شکریہ ادا کرسکوں کیوں کہ میں نے جب بھی آپ سے پولیس کے کسی مسئلے کیلئے رجوع کیا آپ نے ہمیشہ فراخدلی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔ آپ کی پولیس سرپرستی کی پالیسی کی وجہ سے پولیس میں ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے ہمارے آفیسران اور جوان دن رات محنت کررہے ہیں۔ انشاء اللہ اس کے مثبت اثرات زندگی کے تمام شعبہ جات میں نمایاں ہوں گے۔